Al-Kahf
الكهف
Quran
The Cave
غار
al-kahf
60
وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾
جبکہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں ، خواہ مجھے سالہا سال چلنا پڑے ۔
And [mention] when Moses said to his servant, "I will not cease [traveling] until I reach the junction of the two seas or continue for a long period."
61
فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَیۡنِہِمَا نَسِیَا حُوۡتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ سَرَبًا ﴿۶۱﴾
جب وہ دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے ، وہاں اپنی مچھلی بھول گئے جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا ۔
But when they reached the junction between them, they forgot their fish, and it took its course into the sea, slipping away.
62
فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ۫ لَقَدۡ لَقِیۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا ﴿۶۲﴾
جب یہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ لا ہمارا کھانا دے ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی ۔
So when they had passed beyond it, [Moses] said to his boy, "Bring us our morning meal. We have certainly suffered in this, our journey, [much] fatigue."
63
قَالَ اَرَءَیۡتَ اِذۡ اَوَیۡنَاۤ اِلَی الصَّخۡرَۃِ فَاِنِّیۡ نَسِیۡتُ الۡحُوۡتَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ اَنۡ اَذۡکُرَہٗ ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیۡلَہٗ فِی الۡبَحۡرِ ٭ۖ عَجَبًا ﴿۶۳﴾
اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جبکہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا ، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں ۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنا لیا ۔
He said, "Did you see when we retired to the rock? Indeed, I forgot [there] the fish. And none made me forget it except Satan - that I should mention it. And it took its course into the sea amazingly".
64
قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبۡغِ ٭ۖ فَارۡتَدَّا عَلٰۤی اٰثَارِہِمَا قَصَصًا ﴿ۙ۶۴﴾
موسٰی نے کہا یہی تھا ، جس کی تلاش میں ہم تھے چناچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے واپس لوٹے ۔
[Moses] said, "That is what we were seeking." So they returned, following their footprints.
65
فَوَجَدَا عَبۡدًا مِّنۡ عِبَادِنَاۤ اٰتَیۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ عَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴿۶۵﴾
پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا ، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا ۔
And they found a servant from among Our servants to whom we had given mercy from us and had taught him from Us a [certain] knowledge.
66
قَالَ لَہٗ مُوۡسٰی ہَلۡ اَتَّبِعُکَ عَلٰۤی اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴿۶۶﴾
اس سے موسیٰ نے کہا کہ میں آپ کی تابعداری کروں؟ کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے ۔
Moses said to him, "May I follow you on [the condition] that you teach me from what you have been taught of sound judgement?"
67
قَالَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۶۷﴾
اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے ۔
He said, "Indeed, with me you will never be able to have patience.
68
وَ کَیۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰی مَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ خُبۡرًا ﴿۶۸﴾
اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں نہ لیا ہو اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟
And how can you have patience for what you do not encompass in knowledge?"
69
قَالَ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعۡصِیۡ لَکَ اَمۡرًا ﴿۶۹﴾
موسٰی نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور کسی بات میں میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا ۔
[Moses] said, "You will find me, if Allah wills, patient, and I will not disobey you in [any] order."
70
قَالَ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِیۡ فَلَا تَسۡئَلۡنِیۡ عَنۡ شَیۡءٍ حَتّٰۤی اُحۡدِثَ لَکَ مِنۡہُ ذِکۡرًا ﴿۷۰﴾٪ 21
اس نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کسی چیز کی نسبت مجھ سے کچھ نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کی نسبت کوئی تذکرہ نہ کروں ۔
He said, "Then if you follow me, do not ask me about anything until I make to you about it mention."
71
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾
پھروہ دونوں چلے ، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اس کے تختے توڑ دیئے ، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں تا کہ کشتی والوں کو ڈبو دیں ، یہ تو آپ نے بڑی ( خطرناک ) بات کر دی ۔
So they set out, until when they had embarked on the ship, al-Khidh r tore it open. [Moses] said, "Have you torn it open to drown its people? You have certainly done a grave thing."
72
قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۲﴾
اس نے جواب دیا میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا ۔
[Al-Khidh r] said, "Did I not say that with me you would never be able to have patience?"
73
قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِیۡ بِمَا نَسِیۡتُ وَ لَا تُرۡہِقۡنِیۡ مِنۡ اَمۡرِیۡ عُسۡرًا ﴿۷۳﴾
موسٰی نے جواب دیا کہ میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے اور مجھے اپنے کام میں تنگی میں نہ ڈالیئے ۔
[Moses] said, "Do not blame me for what I forgot and do not cover me in my matter with difficulty."
74
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾
پھر دونوں چلے ، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا اس نے اسے مار ڈالا ، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا؟ بیشک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی ۔
So they set out, until when they met a boy, al-Khidh r killed him. [Moses] said, "Have you killed a pure soul for other than [having killed] a soul? You have certainly done a deplorable thing."
75
قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکَ اِنَّکَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعَ مَعِیَ صَبۡرًا ﴿۷۵﴾
وہ کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے ۔
[Al-Khidh r] said, "Did I not tell you that with me you would never be able to have patience?"
76
قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُکَ عَنۡ شَیۡءٍۭ بَعۡدَہَا فَلَا تُصٰحِبۡنِیۡ ۚ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّیۡ عُذۡرًا ﴿۷۶﴾
موسٰی ( علیہ السلام ) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا ، یقیناً آپ میری طرف سے ( حد ) عذر کو پہنچ چکے ۔
[Moses] said, "If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse."
77
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَہۡلَ قَرۡیَۃِۣ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَہۡلَہَا فَاَبَوۡا اَنۡ یُّضَیِّفُوۡہُمَا فَوَجَدَا فِیۡہَا جِدَارًا یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّنۡقَضَّ فَاَقَامَہٗ ؕ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَیۡہِ اَجۡرًا ﴿۷۷﴾
پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آکر ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے ان کی مہمانداری سے صاف انکار کر دیا دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا ہی چاہتی تھی ، اس نے اسے ٹھیک اور درست کر دیا ، موسیٰ ( علیہ السلام ) کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے ۔
So they set out, until when they came to the people of a town, they asked its people for food, but they refused to offer them hospitality. And they found therein a wall about to collapse, so al-Khidh r restored it. [Moses] said, "If you wished, you could have taken for it a payment."
78
قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنِکَ ۚ سَاُنَبِّئُکَ بِتَاۡوِیۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿۷۸﴾
اس نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان ، اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دونگا جس پر تجھ سے صبر نہ ہو سکا ۔
[Al-Khidh r] said, "This is parting between me and you. I will inform you of the interpretation of that about which you could not have patience.
79
اَمَّا السَّفِیۡنَۃُ فَکَانَتۡ لِمَسٰکِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ فِی الۡبَحۡرِ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِیۡبَہَا وَ کَانَ وَرَآءَہُمۡ مَّلِکٌ یَّاۡخُذُ کُلَّ سَفِیۡنَۃٍ غَصۡبًا ﴿۷۹﴾
کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے ۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کر نے کا ارادہ کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک ( صحیح سالم ) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا ۔
As for the ship, it belonged to poor people working at sea. So I intended to cause defect in it as there was after them a king who seized every [good] ship by force.
80
وَ اَمَّا الۡغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤۡمِنَیۡنِ فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ﴿ۚ۸۰﴾
اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے ، ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے ۔
And as for the boy, his parents were believers, and we feared that he would overburden them by transgression and disbelief.
81
فَاَرَدۡنَاۤ اَنۡ یُّبۡدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَیۡرًا مِّنۡہُ زَکٰوۃً وَّ اَقۡرَبَ رُحۡمًا ﴿۸۱﴾
اس لئے ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس کے بدلے اس سے بہتر پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت اور پیار والا بچہ عنایت فرمائے ۔
So we intended that their Lord should substitute for them one better than him in purity and nearer to mercy.
82
وَ اَمَّا الۡجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیۡنِ یَتِیۡمَیۡنِ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ وَ کَانَ تَحۡتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَ کَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنۡ یَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسۡتَخۡرِجَا کَنۡزَہُمَا ٭ۖ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ۚ وَ مَا فَعَلۡتُہٗ عَنۡ اَمۡرِیۡ ؕ ذٰلِکَ تَاۡوِیۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَیۡہِ صَبۡرًا ﴿ؕ٪۸۲﴾ 1
دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا ۔
And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."
83
وَ یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾
آپ سے ذوالقر نین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ۔
And they ask you, [O Muhammad], about Dhul-Qarnayn. Say, "I will recite to you about him a report."
84
اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الۡاَرۡضِ وَ اٰتَیۡنٰہُ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ سَبَبًا ﴿ۙ۸۴﴾
ہم نے اْسے زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہرچیز کے سامان بھی عنایت کر دیے تھے ۔
Indeed We established him upon the earth, and We gave him to everything a way.
85
فَاَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۵﴾
وہ ایک راہ کے پیچھے لگا ۔
So he followed a way
86
حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَہَا تَغۡرُبُ فِیۡ عَیۡنٍ حَمِئَۃٍ وَّ وَجَدَ عِنۡدَہَا قَوۡمًا ۬ ؕ قُلۡنَا یٰذَا الۡقَرۡنَیۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ تَتَّخِذَ فِیۡہِمۡ حُسۡنًا ﴿۸۶﴾
یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کے چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ایک قوم کو بھی پایا ہم نے فرمادیا کہ اے ذوالقرنین! یا ، تو انہیں تکلیف پہنچائے یا ان کے بارے میں تو کوئی بہترین روش اختیار کرے ۔
Until, when he reached the setting of the sun, he found it [as if] setting in a spring of dark mud, and he found near it a people. Allah said, "O Dhul-Qarnayn, either you punish [them] or else adopt among them [a way of] goodness."
87
قَالَ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸۷﴾
اس نے کہا کہ جو ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی اب سزا دیں گے پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اسے سخت تر عذاب دے گا ۔
He said, "As for one who wrongs, we will punish him. Then he will be returned to his Lord, and He will punish him with a terrible punishment.
88
وَ اَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَہٗ جَزَآءَۨ الۡحُسۡنٰی ۚ وَ سَنَقُوۡلُ لَہٗ مِنۡ اَمۡرِنَا یُسۡرًا ﴿ؕ۸۸﴾
ہاں جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے اس کے لئے توبدلے میں بھلائی ہے اور ہم اسے اپنے کام میں بھی آسانی ہی کا حکم دیں گے ۔
But as for one who believes and does righteousness, he will have a reward of Paradise, and we will speak to him from our command with ease."
89
ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا ﴿۸۹﴾
پھر وہ اور راہ کے پیچھے لگا ۔
Then he followed a way