Adh-Dhariyat
الذاريات
Quran
The Winnowing Winds
اڑانے والیاں
adh-dhariyat
0
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعا لٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔
In the name of Allah , the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
1
وَالذّٰرِیٰتِ ذَرۡوًا ۙ﴿۱﴾
قسم ہے بکھیرنے والیوں کی اڑا کر ۔
By those [winds] scattering [dust] dispersing
2
فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۙ﴿۲﴾
پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو ۔
And those [clouds] carrying a load [of water]
3
فَالۡجٰرِیٰتِ یُسۡرًا ۙ﴿۳﴾
پھر چلنے والیاں نرمی سے ۔
And those [ships] sailing with ease
4
فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں ۔
And those [angels] apportioning [each] matter,
5
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾
یقین مانو کہ تم سے جو وعدے کئے جاتے ہیں ( سب ) سچے ہیں ۔
Indeed, what you are promised is true.
6
وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾
اور بیشک انصاف ہونے والا ہے ۔
And indeed, the recompense is to occur.
7
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾
قسم ہے راہوں والے آسمان کی ۔
By the heaven containing pathways,
8
اِنَّکُمۡ لَفِیۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ ۙ﴿۸﴾
یقیناً تم مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو ۔
Indeed, you are in differing speech.
9
یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو ۔
Deluded away from the Qur'an is he who is deluded.
10
قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیئے گئے ۔
Destroyed are the falsifiers
11
الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں ۔
Who are within a flood [of confusion] and heedless.
12
یَسۡئَلُوۡنَ اَیَّانَ یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۱۲﴾
پوچھتے ہیں کہ یوم جزا کب ہوگا؟
They ask, "When is the Day of Recompense?"
13
یَوۡمَ ہُمۡ عَلَی النَّارِ یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۱۳﴾
ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر تپائے جائیں گے ۔
[It is] the Day they will be tormented over the Fire
14
ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَکُمۡ ؕ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اپنی فتنہ پردازی کا مزہ چکھو ، یہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ۔
[And will be told], "Taste your torment. This is that for which you were impatient."
15
اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۱۵﴾
بیشک تقوٰی والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہونگے ۔
Indeed, the righteous will be among gardens and springs,
16
اٰخِذِیۡنَ مَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِکَ مُحۡسِنِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
ان کے رب نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا ہےاسے لے رہے ہونگے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکوکار تھے ۔
Accepting what their Lord has given them. Indeed, they were before that doers of good.
17
کَانُوۡا قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔
They used to sleep but little of the night,
18
وَ بِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور سحر کے وقت استغفار کیا کرتے تھے ۔
And in the hours before dawn they would ask forgiveness,
19
وَ فِیۡۤ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾
اور ان کے مال میں مانگنے والوں کااور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا ۔
And from their properties was [given] the right of the [needy] petitioner and the deprived.
20
وَ فِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔
And on the earth are signs for the certain [in faith]
21
وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور خود تمہاری ذات میں بھی ، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ۔
And in yourselves. Then will you not see?
22
وَ فِی السَّمَآءِ رِزۡقُکُمۡ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾
اور تمہاری روزی اور جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے سب آسمان میں ہے ۔
And in the heaven is your provision and whatever you are promised.
23
فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿۲۳﴾٪ 18
آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو ۔
Then by the Lord of the heaven and earth, indeed, it is truth - just as [sure as] it is that you are speaking.
24
ہَلۡ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿ۘ۲۴﴾
کیا تجھے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے ؟
Has there reached you the story of the honored guests of Abraham? -
25
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
وہ جب ان کے ہاں آئے تو سلام کیا ، ابراہیم نے جواب سلام دیا ( اور کہا یہ تو ) اجنبی لوگ ہیں ۔
When they entered upon him and said, "[We greet you with] peace." He answered, "[And upon you] peace, [you are] a people unknown.
26
فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
پھر ( چپ چاپ جلدی جلدی ) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے ( کا گوشت ) لائے ۔
Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf
27
فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں؟
And placed it near them; he said, "Will you not eat?"
28
فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوف زدہ ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے اور انہوں نے اس ( حضرت ابراہیم ) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی ۔
And he felt from them apprehension. They said, "Fear not," and gave him good tidings of a learned boy.
29
فَاَقۡبَلَتِ امۡرَاَتُہٗ فِیۡ صَرَّۃٍ فَصَکَّتۡ وَجۡہَہَا وَ قَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿۲۹﴾
پس ان کی بیوی آگے بڑھی اور حیرت میں آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں تو بڑھیا ہوں اور ساتھ ہی بانجھ ۔
And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"